Search This Blog
Aslam o alikum ma app ko ya service du ga oline pasa kamaa ka tarika Make money online in pakistan Real earning app with payment proof Pakistani earning app Online earning in pakistan Online earning in pakistan without investment Make money online without investment Make money online without skill Data entry job Typing job Pak ads typing Online pasa kamana ka tarika How go earn money from mobile How to earn money from Instagram #makemoney#onlineearning#earningapp
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
دوست کیا ہے
آج دوستی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ دوستی کسے کہتے ہے یا دوست کی پہچان کیا ہے۔تو مجھ کچھ باتیں پتا چلی کہ دوست کی۔ پہچان کیا ہو گے۔بزرگ ایک جملہ بولا کہا کرتے تھے کہ بیٹا دوست وہ بنانا جس کو دیکھ کر خدا یاد آئے میں اکثر سوچتا کہ ایسا دوست کون ہو سکتا ہے جس کو جب دیکھا جائے تو خدا یاد آ جائے ۔میں گجرات سے ملتان چلا گیا لیکن نہ تو کوئی دوست تھا اس وقت ۔نہ ہی کسی کو بنانا چاہتا تھا کیونکہ دوست تو وہ بنانا تھا جس کو دیکھ کر خدا یاد آجائے لیکن وہ دوست ملے گا کہاں سے.
پھر وہاں اک شخص سے میری ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد ہلکی ہلکی دوستی ہونا شروع ہوگئ دوستی ایسی بڑھ گئی کہ وہ شخص جب بھی میرے سامنے آتا تو مجھ سے پہلے سوال نماز کا کرتا۔اگر میں نماز نہ پڑھتا تو وہ مجھ کو ڈانٹا بھی۔پھر سلسلہ ایسا بن گیا کہ وہ شخص جب بھی میرے سامنے آتا تو میرے ذہن میں ایک ہی چیز ہوتی کہ یہ انسان نماز کا پوچھے گا۔پھر جب بھی وہ شخص میرے سامنے آتا ہے تو میرے ذہن میں نماز یعنی خدا آ جاتا۔
پھر میرے ذہن میں آیا کہ جو پرانے بزرگ بولا کرتے تھے کہ اک دوست وہ بناؤ جس کو دیکھ کر خدا یاد آ جائے تو اس دوست پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کر لینا۔تو اس دوست کو دیکھ کر خدا یاد آ جانا میرے پاس یہ دلیل تھی کہ یہ انسان کبھی بھی دھوکہ نہیں دے گا۔
اس کے ساتھ ہی بزرگ اکثر ایک دوست کی کہانی سنایا کرتے تھے کہ
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک باپ اور ایک بیٹا رہتے تھے
باپ کو اس کا بیٹا بولتا ہے میرے 100 دوست ہے باپ کیتا ہے بیٹا دوست تو ایک ہی کافی ہوتا ہے اگر وفادار ہو تو ۔اس پر بیٹا بولتا ہے میرے سارے ہی وفادار ہے۔ باپ نے جب یہ سنا تو مسکرا کر بولنے لگا کہ وہ کون سا انسان ہے جس کہ ہزاروں دوست ہو اور سارے کہ سارے محلص ہو اس پر بیٹا حیران ہو تو والد نے بولا بیٹا ایک تجربے کرتے ہے۔
ایک بازار سے بکری لے آو بیٹے نے ایسے ہی کیا باپ نے بکری کا سر کاٹ کر ایک شاپر میں ڈالا اور اس شاپر کا منہ بند کر دیا اور بکرے کا خون اپنے بیٹے کے کپڑوں پر لگا دیا پھر کہا جاو آپنے سارے دوستو کہ پاس اور بولو کہ میں نے بندہ قتل کر دیا اس پر ان کا ردعمل جو جو ہوا وہ بتانا
بیٹے نے ایسے ہی کیا ایک ماہ بعد واپس آیا تو باپ نے پوچھ کہ حال سناو کس دوست نے کیا کہا۔اس پر بیٹا بولا کسی نے پنا نہیں دی ۔پیلے سب بولتے تھے کی آرام کرو کھانا کھاو لیکن جب میں بولتا تھا ۔کہ میں نے بندہ قتل کیا ہے شاپر میں سر ہے تو سب نے اپنے اپنے گھر سے باہر نکال دیا میرے ساتھ سب نے یہی سلوک کیا اس پر باپ نے بولا جاو فلا گاوں میں میرا ایک دوست رہتا ہے اس کے پاس جاو اس پر بیٹا بولا آپ کا کوئی دوست بھی ہے آپ نے کبھی بتایا نہیں ۔
باپ ۔میری آج سے 10 سال پہلے آخری دفعہ ملاقات ہوئی تھی اس کے بعد نہیں ملے حیر تم جاو اور اس کو سارا معاملہ بتاو۔
بیٹا چلا گیا اور اس شخص کو جا کر بتایا کہ میں فلا شخص کا بیٹا ہو مجھ سے بندہ قتل ہو گیا ہے اس پر اس شخص نے بولا کون سی بھڑی بات ہے اگر ہو گیا ہے تم اندر آو اس کو گرم دودھ دیا پھر کھانا دیا اور بولا تم آرام کرو میں سب سمبھال لو گا۔
اس پر بیٹا بولا اب آپ کیسے سمبھالے گے اگر پولیس نے پکڑ لیا تو اس پر والد کے دوست نے کیا خوبصورت جواب دیا،
،،،،،ایک پولیس تو کیا ہزار آکر پکر لے مصلہ نہیں مصلہ تو تب ہے کہ لوگ مجھے کہے گے کہ تیرا دوست کا بیٹا پکڑہ گیا اور تو آرام کرتا رہا یہ جملہ میرے لیئے لانت ہے میں مر جانا قبول کرتا ہے لیکن اس لانت کہ ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا۔
اس پر بیٹا جب واپس آیا تو آ کر رو پڑا اور والد سے بولا کہ آپ نے سچ کہ دوست ایک ہواور وفادار ہر تو وہ ہزاروں کہ برابر ہے۔
۔۔۔بس میں بھی اس چیز سے اتفاق کرتا ہو
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment