Skip to main content

Featured

عورت کے خوف

مجھے لگتا ہے کہ اس تحریر کے بعد شاہد مجھ پر تنقید کی جائے کیونکہ آج ایک عورت کی حقیقت بیان کرنے لگا ہو یا شائد اگر یہ کہو کہ آج میں اس معاشرہ کے منہ سے غیرت کا حباب اتار کر تماچہ لگانے لگا ہو تو غلط نہ ہو گا۔  یہ بات ہے ۲۰۲۲ کی جب میں ملتان میں ہوا کرتا تھا تو ہر شام میں اور میرا ایک دوست کھانا کھانے باہر ہوٹل پر جاتے ہے ۔ ہوٹل ہماری رہائش سے اگر دائیں طرف جائے تو دو کلومیٹر تھا مگر دائیں طرف بازار بھی تھا اور رونک بھی مگر ہماری رہائش سے اگر بائیں طرف سے جائے تو وہ چند قدم کا فاصلہ تھا لیکن اس سائڈ پر نہ تو بازار تھا نہ رونک اور یہاں تک کہ اس اطراف کوئی لائٹ بھی نہیں تھی۔ جیسے ہی ہم لوگ اس راستے پہ نکلے میں اور میرا دوست ہم نے تھوڑا ہی دور ایک عورت کو دیکھا جو عمر سے تو چالس پینتالس سال لگ رہی تھی لیکن اس کے نین نقش اور حسن و جمال بیس پچیس سالہ لڑکی سے بھی کم نہیں تھے جب ہمارے قریب پہنچی تو اس نے اچانک سے ہمارے آگے فریاد کی باتوں سے تو لگ رہا تھا کسی اچھے گھرانے کی ہے سلجھی لڑکی ہے لیکن اس کے آثار اور اس کے اشارے بتا رہے تھے کہ اس کے ارادے کچھ اور ہیں خیر ہم نے اس سے بات کی اس کا م...

Do respect have respect

 اسلام وعلیکم

ہم نے شروع ہی سے یہ سنا ہے عزت دو اور عزت لو ہلاکہ یہ خیال آج کے دور میں بالکل غلط ہے 

اگر آج کے دور کی بات کی جائے تو وہ یہ ہے پیسہ کماؤ عزت کماؤ


آپ کو ایک مثال دیتا ہوں ایک انسان جو کسی فیکٹری میں کام کرتا ہے وہ ایک منشی کو منشی صاحب بولتا ہے آپ اپنے خیال سے بتائیں کیا وہ منشی بھی اسے صاحب بلاتا ہے

نہیں وہ منشی کو اس کی شکل کی وجہ سے منشی نہیں بناتا بلکہ اس کی جیب میں جو پیسے ہیں ان پیسوں کی بدولت اس کو کہتا ہے

کیوں کہ آج کے دور میں عزت پیسے کی عزت مرتبے کی عزت مقام کی ہے بلکہ آج کے دور میں عزت انسان کی نہیں بلکہ ہر اس چیز کی عزت ہے جو انسان کو فائدہ دے

یہاں مجھے مولانا رومی کا ایک جملہ یاد آتا ہے وہ کہتے تھے کہ کسی شہر میں ایک بیڑیاں چلا گیا

بڑھیا راستے سے گزر رہا تھا کہ ایک چھت سے بکری گالیاں دینے لگ پڑی بھیڑیے نے اوپر دیکھا سلام کیا آگے چل پڑا

کسی نے بھیڑیں سے پوچھا تم بکری سے طاقتور ہو تم بکری کو کھا سکتے ہو پھر تم نے اس کا سلام کیوں کیا


تو بھیڑیں  نے بڑا خوبصورت جواب دیا اس نے بولا میں بکری کا سلام نہیں کر رہا میں اس چھت کو سلام کررہا ہوں جس کی بدولت آج بکری بھی مجھے گالی دے رہی ہے

ایک صاحب دولت انسان کو ضرورت نہیں کہ وہ ہر انسان کو صاحب جی صاحب جی نولتا پھرے۔یہ لوگوں کی وہ وہ اور شابا شابا فو غریب کی عادت ہے ۔اس لیئے میں ہمیشہ کیتا ہو کی غرزت دینے سے عزت نہیں ملتی بلکہ عزت کمانے سے عزت ملتی ہے۔

اس میں ایک اور چیز بھی آ جاتی ہے خدا جسے چاہے عزت عطا کرے جسے چاہے زلیل کرے ۔لیکن یہ علحیدہ معنی میں آجاتا ہے۔ 




Comments

Popular Posts