Skip to main content

Featured

عورت کے خوف

مجھے لگتا ہے کہ اس تحریر کے بعد شاہد مجھ پر تنقید کی جائے کیونکہ آج ایک عورت کی حقیقت بیان کرنے لگا ہو یا شائد اگر یہ کہو کہ آج میں اس معاشرہ کے منہ سے غیرت کا حباب اتار کر تماچہ لگانے لگا ہو تو غلط نہ ہو گا۔  یہ بات ہے ۲۰۲۲ کی جب میں ملتان میں ہوا کرتا تھا تو ہر شام میں اور میرا ایک دوست کھانا کھانے باہر ہوٹل پر جاتے ہے ۔ ہوٹل ہماری رہائش سے اگر دائیں طرف جائے تو دو کلومیٹر تھا مگر دائیں طرف بازار بھی تھا اور رونک بھی مگر ہماری رہائش سے اگر بائیں طرف سے جائے تو وہ چند قدم کا فاصلہ تھا لیکن اس سائڈ پر نہ تو بازار تھا نہ رونک اور یہاں تک کہ اس اطراف کوئی لائٹ بھی نہیں تھی۔ جیسے ہی ہم لوگ اس راستے پہ نکلے میں اور میرا دوست ہم نے تھوڑا ہی دور ایک عورت کو دیکھا جو عمر سے تو چالس پینتالس سال لگ رہی تھی لیکن اس کے نین نقش اور حسن و جمال بیس پچیس سالہ لڑکی سے بھی کم نہیں تھے جب ہمارے قریب پہنچی تو اس نے اچانک سے ہمارے آگے فریاد کی باتوں سے تو لگ رہا تھا کسی اچھے گھرانے کی ہے سلجھی لڑکی ہے لیکن اس کے آثار اور اس کے اشارے بتا رہے تھے کہ اس کے ارادے کچھ اور ہیں خیر ہم نے اس سے بات کی اس کا م...

اصول عشق

 جس طرح ہر چیز کے کوئی نہ کوئی اصول ہوتے ہے اسی طرح عشق کے بھی اصول ہوتے ہے

انسان کہتا ہے مجھے پہلی نظر میں محبت ہو گئی لیکن میرے مطابق ایسا نہیں ہوتا انسان گچھ مقام سے گزر کر عشق کے سمندر میں گرتا ہے۔

1 ٹھرک

2 ہوس

3مقام چناو

4محبت

5 عشق 

1 ٹھرک ۔انسان کسی سے پہلی نظر میں محبت نہیں کر بیٹھا بلکہ انسان سب سے پہلے ٹھرکی ہوتا ہے 

و ہی ٹھرکی جو ہر انسان جووانی کے دینوری میں ہوتا ہے اور ہر ایک بنت حوا کو دیکھنے کا شوق رکھتا ہے اس کو بل گل ہی علم نہیں ہوتا کہ میں ٹھرک میں مبتلا ہو یا عشق کے سمندر میں میری موج اتر رہی ہے۔ پھر اتا ہے ہے دوسرا مقام

2 ہوس۔ انسان جب ٹھرک سے آگے چلا جاتا ہے تووہ ہوس زادہ بن جاتا ہے اس کو بنت حوا یا پھر ابن آدم اپنے استعمال کے لیئے نظر آتے ہے لیکن وہ ٹھرک کی ندی سے نکل کے ایک حوس کے دریا میں آ جاتا ہے اس کو ہوس ہی ہوس نظر آتی ہے

3 مقام چناو۔انسان جب ہوس کے دریا میں پہنچ جاتا ہے تو وہاں سے مقام چناو شروع ہوتا ہے اور میری سوچ کے مطابق مقام چناو ہی ایک ایسا مقام ہے جو انسان کو بتاتا ہے کہ تو ہوس کی دنیا میں ہے یا عشق کی نگری میں ۔جب انسان اس مقام پر اتا ہے تو اس کے پاس دو رستے ہوتے ہے یا تو وہ اپنی ہوس کو بجائے یا اپنی محبت 

کیونکہ اگر اس کو محبت ہوئی تو وہ ہوس کی طرف جائے گا بھی نہیں کیونکہ محبت ایک ایسا لطف ہے جس میں حوس مر جاتی ہے اس میں اگر ایک انسان پر پوری دنیا مر رہی ہو اپنی ہوس بجانے کی حاطر آپ نہیں بجائے گے کیونکہ أپ کا ضمیر ہی نہیں مانے گا اس شخص کو گندہ کرنے کو


4 جب آپ مقام چناؤ سے گزر جاتے ہے تو آپ محبت کے سمندر میں ڈھل جاتے ہے پھر وہ مقام ہوتا ہے جس سے آپ محبت کرتے ہے وہ بھی آپ کی طرف مائل ہونا شروع ہو جاتا ہے یا ہو جاتی ہے۔اور یہ وقعہ ہی ہوتا ہے اس پر میں نے بہت ہی قریب سے تجربہ کیا ہے


5 عشق۔عشق وہ آخری گھڑی ہوتی ہے جس میں آپ سمندر کی موجوں میں گم ہو جاتے ہے پھر کوئی کیا کہے أپ کو فرق نہیں پڑتا أپ کے سامنے آپ کا ساتھی ہی دنیا اور دولت ہوتی ہے۔





Comments

Popular Posts