Skip to main content

Featured

عورت کے خوف

مجھے لگتا ہے کہ اس تحریر کے بعد شاہد مجھ پر تنقید کی جائے کیونکہ آج ایک عورت کی حقیقت بیان کرنے لگا ہو یا شائد اگر یہ کہو کہ آج میں اس معاشرہ کے منہ سے غیرت کا حباب اتار کر تماچہ لگانے لگا ہو تو غلط نہ ہو گا۔  یہ بات ہے ۲۰۲۲ کی جب میں ملتان میں ہوا کرتا تھا تو ہر شام میں اور میرا ایک دوست کھانا کھانے باہر ہوٹل پر جاتے ہے ۔ ہوٹل ہماری رہائش سے اگر دائیں طرف جائے تو دو کلومیٹر تھا مگر دائیں طرف بازار بھی تھا اور رونک بھی مگر ہماری رہائش سے اگر بائیں طرف سے جائے تو وہ چند قدم کا فاصلہ تھا لیکن اس سائڈ پر نہ تو بازار تھا نہ رونک اور یہاں تک کہ اس اطراف کوئی لائٹ بھی نہیں تھی۔ جیسے ہی ہم لوگ اس راستے پہ نکلے میں اور میرا دوست ہم نے تھوڑا ہی دور ایک عورت کو دیکھا جو عمر سے تو چالس پینتالس سال لگ رہی تھی لیکن اس کے نین نقش اور حسن و جمال بیس پچیس سالہ لڑکی سے بھی کم نہیں تھے جب ہمارے قریب پہنچی تو اس نے اچانک سے ہمارے آگے فریاد کی باتوں سے تو لگ رہا تھا کسی اچھے گھرانے کی ہے سلجھی لڑکی ہے لیکن اس کے آثار اور اس کے اشارے بتا رہے تھے کہ اس کے ارادے کچھ اور ہیں خیر ہم نے اس سے بات کی اس کا م...

اگر تم حکومت کرنا چاہوُتو تقسیم کرو

​یہ بات ہے 1962 کی جب لاہور کے اندر ایک روز نامہ لاہور ہوا کرتا تھا ۔اس کا ایڈیٹر ایک ہندو انسان تھا ۔اس انسان نے ایک دن اخبار کے اندر یہ شایع کر ڈالا کہ سب ہی مسلمان کافر ہے  ۔جب یہ بات شایع ہوئی تو مسلمان آگ بگولا ہوگئے انہوں نے توڑ پھوڑ شروع کردی سڑکیں بلاک کر دی احتجاج شروع کردیا ۔گاڑیاں جلا ڈالی شیشہ توڑ ڈالی اور اس کے دفتر پے دعوی دے ڈالا اس پے پرچے دائر کر دی ۔اس پر قتل کا فتوی لگانا شروع کردیا ۔بلا آخری اس کو زیر حراست جیل میں ڈالا گیا اور اس کو جج کے سامنے پیش کیا گیا تو جج نے ان سے پوچھا بتاو  تم نے ایسا کیوں کیا ۔تو اس نے بولا جناب والا میرا جس جہاں پے گھر ہے  میرے گھر کے دائیں طرف مسلمانوں کا مسجد ہے اور بائیں جانب بھی مسلمانوں کا مسجد ہے ۔لیکن فرق یہ ہے ۔جو دائیں جانب ہے وہ سنیوں کا مسجد ہے ۔اور بائیں جانب والیعہدےتشی کی مسجد ہے میں دن کو دیکھتا ہوں جو سنی ہے وہ کہتے ہے  سواشاء کافر ہے اور جو شیاء ہے وہ کہتا ہے کہ سنیاں کافر ہے ۔اور ہمارے بیک پے اہل حدیث کی مسجد ہے وہ کہتا ہے کہ یہ دونوں کافر ہے ہم بہتر ہے۔ہم اعلی تو جناب والا میں نے یہ نوٹ کیا اور یہ سوچا ہتا کہ وہ اس کو کہتا ہے تم کا فر ہے اور اس کو کہتا ہے کہ تم کافر ہو تو میرے خیال میں سب کا فر ہے تو جناب والا  یہ سوچ کے ان سب کو ہی لکھ ڈالی کہ سب ہی مسلمان کافر ہے اس بندے کی بات تو ٹھیک تھی کہ ہم لوگوں نے خود ہی اس کو بتایا تھا کہ یہ کافر ہے وہ کافر ہے تو اس نے ایسے ہی لکھنا تھا نہ اس بات کو دیکھتے ہوئے مجھے ایک جملہ یاد آیا یہ جملہ ایک فرانسسی رائٹر کا ہے اس نے بولا کہ اگر کسی کو تباہ برباد کرنا ہو کسی قوم کو تباہ برباد کرنا ہو تم کسی قوم پے حکمرانی چاہتے ہو تو ان کو مذہب رنگ اور نسل ان تین چیزوں کو فرق میں ڈالے رکھو تو کالا ہے یا سفید ہے تو شیاء ہے یا سنی ہے تو چودھری ہے یا تو مسلی ہے یعنی کہ ہر انسان کو اس کی عناپسند ہوتی ہے اور ان کے فرق میں ڈالی رکھو یہ قوم یہ لوگ کبھی بھی متحد نہی ہوگی اس انسان کی یہ بات اور اس واقع کی آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے اگر آج کے دور میں دیکھوں تو حقیقت بھی یہی ہے میرے ملک پاکستان کے چاروں صوبے  اپنی اپنی انا میں اکھٹے ہوے اس دوسرے کو کم تر سمجھنے کے لیے ظاہر کرنے کے لیے خود کو بلا تر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ہمیں اپنے ملک کے باشندوں کو اگر دیکھوں تو یہاں ہر انسان مذہب کو دیکھے تو مذہب میں مختلف فرقے بنائے گئے ہیں کیوں بنائے گئے ہے تاکہ یہ یکجانہ ہو اور اگر اس کو عالمی سطح پر دیکھا جائے تو ہے بھی حقیقت اور اگر کوئی سعدیہ پے اٹیک کرتا ہے تو ایران ہٹ جاتا ہے کیونکہ وہ اہل ایران جو ہے وہ افیکاءجافریا سے تعلق رکھتا ہیں  لیکن جب کوئ شام پے اٹیک کرتا ہے تو اہل سعود پھچے ہٹتا ہے کیونکہ وہ فیکیا جافریا کو تسلیم نہی کرتا ہے ۔یہی بات ہے کہ اس فیکے کو لوگوں کو ان کی رنگ رنگ کی بنیاد پے ان کا نسل کی بنیاد پے تقسیم در تقسیم کیا جاتا ہے اور ہرگز مت سمجھیں کہ یہ مسلمانوں کے حصے میں بات کررہا ہوں ۔اگر دیکھا جائے تو دنیا کے اندر بڑی بڑی مثالیں پڑی ہے ۔ایک وقت تھا کہ   جب امریکہ کے اندر کالے اور گورے کا فرق پڑا تھا ۔اور یہ آج بھی موجود ہیں۔ یہ دنیا کو اپنے آپ یکجا دیکھانے کے لیے کھچ چھوٹے موٹے کام کئے کہ یہ دنیا کہے کہ یہ متہد ہے ۔لیکن حقیقت آج بھی کوئی متحد نہیں بات بہت لمبی ہے حقیقت ہی ہے کی اگر تم لوگوں نے کسی قوم کو یا کسی ہجوم کے اپر وہ قوم کھبی بھی نہی کیوں گا کیونکہ قوم وہ ہے جو متہد ہوتی ہے آگر تم کسی ہجوم پے حکومت کرنا چاہتے ہو تم ان کے درمیان مذہب نسل اور رتبے کا فرق پیدا نہی کرو اور وہ لوگ کبھی بھی حق بات پے یکجا نہی ہوں گے۔

Comments

Popular Posts