Skip to main content

Featured

عورت کے خوف

مجھے لگتا ہے کہ اس تحریر کے بعد شاہد مجھ پر تنقید کی جائے کیونکہ آج ایک عورت کی حقیقت بیان کرنے لگا ہو یا شائد اگر یہ کہو کہ آج میں اس معاشرہ کے منہ سے غیرت کا حباب اتار کر تماچہ لگانے لگا ہو تو غلط نہ ہو گا۔  یہ بات ہے ۲۰۲۲ کی جب میں ملتان میں ہوا کرتا تھا تو ہر شام میں اور میرا ایک دوست کھانا کھانے باہر ہوٹل پر جاتے ہے ۔ ہوٹل ہماری رہائش سے اگر دائیں طرف جائے تو دو کلومیٹر تھا مگر دائیں طرف بازار بھی تھا اور رونک بھی مگر ہماری رہائش سے اگر بائیں طرف سے جائے تو وہ چند قدم کا فاصلہ تھا لیکن اس سائڈ پر نہ تو بازار تھا نہ رونک اور یہاں تک کہ اس اطراف کوئی لائٹ بھی نہیں تھی۔ جیسے ہی ہم لوگ اس راستے پہ نکلے میں اور میرا دوست ہم نے تھوڑا ہی دور ایک عورت کو دیکھا جو عمر سے تو چالس پینتالس سال لگ رہی تھی لیکن اس کے نین نقش اور حسن و جمال بیس پچیس سالہ لڑکی سے بھی کم نہیں تھے جب ہمارے قریب پہنچی تو اس نے اچانک سے ہمارے آگے فریاد کی باتوں سے تو لگ رہا تھا کسی اچھے گھرانے کی ہے سلجھی لڑکی ہے لیکن اس کے آثار اور اس کے اشارے بتا رہے تھے کہ اس کے ارادے کچھ اور ہیں خیر ہم نے اس سے بات کی اس کا م...

power of silence

​یہ بات ہے 12 جنوری کی

ہمارے گاوں میں ہر سال 12جنوری کو نہر بند کر دی جاتی ہے نہر کا پانی خشک کیا جاتا ہے کیونکہ نہر کا پانی منگلا ڈیم سے آتا ہے اور ڈیم کے ساتھ جڑی نہروں کی صفائی کے لیئے نہر کو بند کیا جاتا ہے

میں اور میرے والد صاحب 12 جنوری کو اپنی زمینوں کی طرف جا رہے تھے ہماری زمینیں نہر کی دوسری طرف ہے اور نہر کے پل کو پار کر کے جایا جاتا ہے

جیسے ہی ہم نہر کے پل سے گزرے تو دیکھا کہ نہر تو خشک ہے لیکن ابھی تھوڑا سا پانی ہے لیکن کوئی شکاری بھی نہیں جو اس پانی سے مچھلیاں پکڑے کیونکہ جب بھی نہر میں پانی کم ہوتا تو شکاری مچھلیاں پگڑتے لیکن اس دفعہ نہیں تھے میں بہت خیران ہوا کہ یہ ایسا کیوں ہوا ۔ میں نے والدُصاحب سے وجہ پوچھی تو والد صاحب نے بتایا کہ ابھی یہ مچھلی خاموش ہے اور پانی پر کوئی حل چل نہیں جس وجہ سے شکاری  سے بچی ہوئی ہے جب بھی یہ پانی سے باہر ائے گی شکاری کی نظر میں آئے گی تو وہ ضرور پکڑے گا۔

جب والد صاحب کی یہ بات میں نے سنی تو مجھے افلاطون کاُ وہ جملا یاد آگیا

جب تک مچھلی منہ نہیں کھولتی تب تک وہ شکاری کے جال میں نہیں پسنتی)

اگر سوچا جائےتو وہ بات مچھلی کے لیئے نہیں تھی بلکہ ایک سبق تھا جو شکاری کو سمجھایا جا رہا تھا کہ جس مچھلی یعنی انسان کو آپ پکڑنا چاہتے ہے تو سب سے پہلے یہ سوچے کہ وہ کون سی مچھلی کی ماند ہے جو منہ بند رکھتی ہے یا جو ہر وقت منہ کھول کر رکھتی ہے ۔ کیونکہ جو انسان ہر وقت منہ کھول کر رکھتا ہے یعنی ہر وقت باتیں کرتا رہتا ہے وہ ضرور اپنے اندر کے راز اگل دے گا لیکن جو خاموش ہوتا ہے اس کو سمجھنا ہی بہت مشکل ہوتا ہے

یہاں پر مجھے ایک تھیوری یاد آتی ہے 

Power of silence 

یعنی خاموشی ایک ہتھیار ہے جس کی بدعولت آپ بہت ساری جنگوں کو جیت سکتے ہے اور سب سے بڑی وہ جنگ جو آپ کی اپنے اندر کے منافقوں میں ہوتی ہے کیونکہ کہ اپنوں سے جنگ تلوار سے نہیں خانوشی سے جیتی جا سکتی ہے کہ ان کو پتہ ہی نہ چلے کہ آپ کی اگلی چال کیا ہے اور یہ دنیاُکا دستور ہے کہ ہمیشہ انسان کو اپنوں کی وجہ سے شکست ہوئی ہے

یہاں پرُمیں پنجابی کی ایک مشہور کہاوت ہے وہ بیان لازمی کرو گا کہ

خالی مٹکا زیادہ آواز دیتا ہے جب کہ بھرا ہوا مٹکا کبھی آواز نہیں دیتا

ساری باتوں کی ایک بات کہ Power of silence سے بڑی کوئی پاور نہیں

Comments

Popular Posts